ابنا: تیونس کے سابق فراری صدر کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب تیونس میں ان کی غیر موجودگی میں ان پر عائد الزامات کے مقدمے کی سماعت شروع ہو رہی ہے۔ تیونس کی وزارتِ خارجہ کے ایک بیان میں سابق صدر پر سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات لگائے گئے تھے۔ بیان میں سابق صدر کو ’عوام میں نفرت کا بیج بونے اور انہیں ایک دوسرے کو ہلاککرنے پر اکسانے کا مجرم قراردیا گيا ہے۔بن علی پر اگر بدعنوانی اور منشیات کی سمگلنگ سمیت متعدد الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو اس صورت میں ان کو بیس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ رواں سال فروری میں تیونس میں حکام نے سرکاری طور پر سعودی عرب سے سابق تیونسی صدر زین العابدین بن علی کو تیونس کے حوالے کیے جانے کی درخواست کی تھی۔تاہم ابھی تک سعودی عرب نے تیونس کی اس درخواست کا جواب نہیں دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز